مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے تیل لے جانے والے آئل ٹینکروں کے انشورنس اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بحیرہ احمر میں انشورنس پریمیم میں اضافے نے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستہ قائم کرنے کی حکمت عملی کے سامنے ایک نئی رکاوٹ کھڑی کردی ہے۔
رائٹرز نے ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں کی آمدورفت سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ ینبع کی مرکزی بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ کا عمل تاحال دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار ذرائع نے بتایا کہ ینبع میں لنگر انداز ہونے والے سعودی عرب سے منسلک آئل ٹینکروں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس فیس بڑھ کر جہاز کی مالیت کے تقریباً 3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ینبع کے جنوب میں واقع سعودی عرب کی بندرگاہوں سے منسلک آئل ٹینکروں کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس فیس جہاز کی مالیت کے 7 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
ہائیڈمار میری ٹائم کے سربراہ نے بھی بتایا کہ جو بھی آئل ٹینکر ینبع میں لنگر انداز ہوگا، اس کا سعودی عرب سے تعلق ہوگا اور اس کے نتیجے میں وہ حملے کے خطرے سے دوچار ہوگا۔
ہائیڈمار میری ٹائم کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ان کی کمپنی سعودی عرب کی بندرگاہوں سے گریز کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ینبع سے ایک سفر کے لیے جنگی خطرات کی انشورنس لاگت تقریباً 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ سعودی عرب کی جنوبی بندرگاہوں سے سفر یا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی صورت میں یہ لاگت تقریبا 70 لاکھ ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ